*ہندوستان ذات،پات کی آگ میں*
*ہندوستان ذات،پات کی آگ میں*
تاریخ ہند کا ہر طالب عالم بخوبی واقف ہے؛ کہ ہندوستان کے اندر ذات،پات اور طبقاتی امتیاز کا ہمیشہ عروج رہا ہے،یہاں ایک خاص طبقہ نے نہ صرف اپنے آپ کو مقدس ومبارک گردانا؛ بلکہ عوام کو اپنا غلام اور ہاتھوں کا میل سمجھتے ہوئے بے دریغ استعمال کیا ہے،ساتھ ہی ظلم وجور کے بادل ایسے توڑے گئے؛ کہ شاید تاریخ انہیں کبھی معاف نہ کرے،لیکن آزاردی ہند کے بعد مستقل اس بات کی کوشش رہی؛کہ اس ظالمانہ رسم کا اختتام ہو،لہذا ملک کے دردمند سیاسی افراد اور مخلصین اور انسان دوست لوگوں نے ۱۹۸۹ء میں عدالت عظمی کے ذریعہ ایک قانون جاری کروایا جسےSC (شیڈیول کاسٹ) یعنی دلت اور ST(شیڈیول ٹرائب)یعنی آدی واسی ایکٹ سے موسوم کیا گیا،جس کے اعتبار سے ان پچھڑے اور معاشرے کے کچلے ہوئے افراد کے ساتھ کسی قسم کی بد تمیزی یا استحصال کے خلاف سخت کاروائی کی یقین دہانی کروائی گئی؛یہاں تک کہ اس کے ملزم کو ضمانت بھی نہ دی جائے گی،شاید یہی وہ قانون تھا جس کی وجہ سے ایک طویل عرصہ تک اس قوم نے اپنی کمر سیدھی کرنے کی کوشش کی اور مختلف میدانوں میں کارہائے نمایا انجام دے کر ایک نئی تاریخ کی طرف پیش قدمی کی ہے۔
*حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کا اثر گزرتے وقت کے ساتھ بہت حد تک غیر موثر ہونے لگا، اور اعلی ذات کی قوموں نے اپنی انا و عناد تلے؛ا انہیں مسلنے اور پھر سے اپنا غلام بنانے کی تیاری کرتے رہے،اس کیلئے گزشتہ دس بارہ سالوں سے مستقل جد وجہد کی گئی، اور ہر ممکن اس سماج کو ڈرانے اور بد سلوکی کے ساتھ زندگی اجیرن کردینے کی کوشش کی گئی،خود سرکاری تخمینہ سے پتا چلتا ہے؛ کہ ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۷ء تک ان کے خلاف جرائم کی شرح میں ۶۶ فیصد اضافہ ہوا ہے،اور سرکار ہی کے اعتبار سے ہر پندرہ منٹ میں ان کے ساتھ کوئی نہ کوئی جرم ہوتا ہے،اور اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے؛ کہ حقوق نسواں کا راگ الاپنے والوں کے درمیان ہی ہر دن ۶ (چھ) دلت عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر ہوتا ہے،جبکہ یہ شرح اس اعتبار سے ہے؛ کہ صرف ۷۸ فیصد معاملوں ہی میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے؛حالانکہ کہ اکثر تو اس وجہ سے ؛کہ اونچی ذات والے بدلہ لین گے، یا ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا، ایف آئی آر درج ہی نہیں کرواتے ہیں۔=(The wire)*
*ان تمام حقیقتوں کے باوجود سرکار کی بد نیتی اور طبقاتی بالادستی کے حامیین نے عدالت عظمی سے ایک حیران کن فیصلہ کروایا،جس کے مطابق sc اور st ایکٹ میں تبدیلی لاتے ہوئے یہ کہا گیا؛کہ چونکہ اس قانون کا غلط استعمال ہوا ہے اور اس قانون کو دوسرے طبقات کے خلاف استعمال کیا گیا ہے ،اسی لئے اب یہ ہونا چاہئے ؛کہ اگر کوئی دلت کسی کے خلاف شکایت کرے تو ملزم کو گرفتار کرنے کیلئے یہ ضروری ہے؛کہ اگر وہ سرکاری ملازم ہے یا کہیں اور پر بھی ملازم ہےتو اسے اس محکمہ کے ذمہ دار سے اجازت لینی ہوگی ،اور مزید یہ کہ اسے ضمانت بھی دی جاسکتی ہے۔یہ فیصلہ جسٹس اے کے گویل اور یو یو للت نے دیا ہے،شاید ان کی نظر میں صرف یہی قانون تھا جو لاقانونیت کا شکار ہو،بہر حال یہی وجہ ہے؛ کہ پورے ہندوستان میں پرزور مخالفت کا بازار گرم ہے، "بھارت بند"کا اعلان ہے، مدھیہ پردیش،اتر پردیش، بہار، راجستھان ان کے غضب کی آگ سے جھلس رہا ہے، اور تقریبا ۵ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں،جبکہ میرٹھ اور مظفر نگر کی پولس چوکی بھی نذرآتش کردی گئی ہے،اور ہر جگہ مودی حکومت کی جانبداری اور ناانصافی کا شور غوغا مچاہوا ہے،اور اسے اپنی آزادی و حق کے خلاف گردانتے ہوئے شاہراہوں پر انسانی سیلاب امنڈ پڑاہے۔کاش انہیں کوئی بتلاتا؛کہ مساوات و حقوق کا ضامن صرف اور صرف اسلام یے،جس میں خاندان و ذات کوئی معنی نہیں؛ بلکہ تقوی و طہارت اور بزرگی و للہیت کے سوا کوئی معیار نہیں،اور اس کے علاوہ تمام راہیں؛سراب کے سوا کچھ نہیں۔*
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
03/04/2018
Comments
Post a Comment