مسلمانوں کی تنزلی کی اہم وجوہات

*مسلمانوں کی عمومی تنزلی کی وجوہات*


آج کے اس دور میں دنیا کے نقشہ پر جہاں نظر دوڑائے ہر طرف امت مسلمہ پسپائی اور تنزلی کا شکار ہے کسی جگہ تو گاجر اور مولی کی طرح کاٹا جارہا ہیں تو کہی امت کی بیٹیوں کی سر عام عزتیں نیلام کی جارہی ہیں اور کہیں بموں کی بارش کے ذریعہ شہروں کو ملبوں تبدیل کیا جارہا ہے اور کہیں شریعت میں مداخلت کے ذریعہ مسلمانوں کی دھجیاں اڑائی جارہی اور لو جہاد کے نام پر انسانیت کو شرمسار کرنے والے ویڈیو وائرل کرکے مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلاء کیا جارہا ہیں اور کہیں جانوروں کے لیے انسانوں کی بلی دی جارہی ہیں

تو اس پستی کی وجہ کیا ہے ؟

حالانکہ ایک دور تھا مسلمان ہی کیا انسانیت ہر جگہ محفوظ تھی اور بہنوں کی عزتیں محفوظ تھی اور پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا دبدبہ اور رعب تھا آخر مسلمانوں کی کونسی طاقت تھی جس نے سپر پاور کو صفر پاور بنادیا تھا اور گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا اگر ہم نظر دوڑائے تو بنیادی دو وجہ ملتی ہیں جو آج کے زمانے میں مسلمانوں کی اکثریت سے مفقود ہوچکی ہیں
اور اسکی طرف کئی علماء امت نے اپنے وعظ میں رہبری کی جس کو میں تحریری شکل میں قلم بند کررہا ہوں

وہ وجوہات یہ ہیں

سب سے پہلی وجہ مسلمانوں کے اعمال ہیں کہ جس طرح اعمال اوپر جارہے ہیں اسی طرح کے فیصلے اوپر سے نازل ہورہے ہیں
 اللہ تعالی قران میں ارشاد فرماتا ہیں
ظھر الفساد فی البر و البحـر بمـا کسبت ایدی الناس
اسی طرح اور بھی آیات قرانی ہیں جو بوجہ اعمال فاسدہ مسلمانوں کی تنزلی کی طرف مشیر ہیں
اور یقینا مسلمانوں کی آج کی نسل کے اعمال بہت خراب ہوگئے ہیں آج کے نوجوان مغربی تہذیب اور کلچر سے متاثر ہوکر ایسی ملحدانہ باتیں کررہیں کہ غیر محسوس طریقہ سے خارج از اسلام ہورہے ہیں اور مسلمانوں کا ایک طبقہ خود شریعت میں مداخلت کے لیے پیش پیش ہیں اور خود شریعت کے خلاف فیصلہ کو مستحسن قرار دے رہا ہیں
اس لیے مسلمانوں کی ترقی کے لیے اکثریت کے اعمال کا درست ہونا ضروری ہیں تب جاکہ اللہ کی مدد نازل ہوگی
ارشاد باری ہیں

ان تنصرواللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم

لا تہنو ولا تحــزنوا انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین

(مسلمانوں تم غمگین مت ہو تم ہی سر بلند رہوگے بشرطیکہ تم کامل مومن ہو)

دوسری بنیادی وجہ امت کا دعوت کے مشن کا مفقود کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے دعوت اسلام اور دعوت الی اللہ کو سببِ عذاب یا سبب ہدایت بنایا ہے
پہلے انبیاء اور تاریخ پر نظر دوڑائے تو پتہ چلتا ہیکہ اللہ نے کسی قوم کو ہدایت نہیں دی جب تک کہ ان کے پاس کوئی داعی یا نبی نہیں بھیجا

اور کسی قوم کو عذاب نہیں دیا جب تک کہ ان کے پاس کوئی نبی یا داعی مبعوث نہ کیا

فرعون کی فرعونیت دعوت کے بعد ختم ہوئی

نمرود کی نمرودیت دعوت کے بعد ختم ہوئی

حضرت نوح علیہ السلام کے سرکش قوم پر عذاب دعوت دینے کے بعد آیا
اللہ کے نبی علیہ السلام کی بعثت سے پہلے انسانیت انتہائی درجہ تک گرچکی تھی اونٹ کے پہلے پانی پی لینے سے صدیوں چنگ چلتی اور تلوار کی دھار کو جانچنے کے لیے انسان کی گردن اڑائی جاتی مگر اللہ تعالی نے انھیں عذاب یا ہدایت نہیں دیا جب تک کہ نبی آخر الزماں کو ان میں مبعوث نہیں کیا جب اللہ کے نبی کی بعثت ہوئی اور نبوت ملی تو اللہ کے نبی کی دعوت کو جس نے مانا اللہ نے انھیں صحابہ کے زمرے میں شامل کردیا اور اسلام کا مددگار بنادیا

صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جو سپر پاور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اس کی وجہ انکو اللہ کی طرف بلانا تھا اور دعوت اسلام تھی جب انھوں نے نہیں مانا تو یہی دعوت انکے حق میں عذاب بنکر ان کا نام نشان مٹادیا
اور جس نے دعوت اسلام کو مانا تو یہی دعوت الی اللہ انکے حق سبب ھدایت بن گئی
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں اور آج ضرورت بھی اس بات کی ہیکہ ہم بھی آج ان ظالموں تک اللہ کا پیغام پہنچائے ہمیں چاہیے ہم انھیں اپنی شریعت پر چلنے کی دعوت دیتے مگر آج تو برعکس ہوگیا ہے وہ ہمیں انکے قانون پر چلانے حکم دے رہے ہیں

اگر ہم آج بھی ان دو بنیادی وجوھات کو درست کرلے تو وہ دن دور نہیں کہ دنیا اسلام اور مسلمانوں کے قدموں میں ہوگی

اور اگر ہم نے دعوت اسلام ان ظالموں اور اسلام مخالف دشمنوں کو دی تو 
اللہ تعالی کی رحمت جوش میں آئیگی اور یہی دعوت الی اللہ ان ظالموں کے حق میں یا تو عذاب بن جائیگی اور انھیں صف ہستی سے پاک کردیگی
یا تو ہدایت بنکر انکو اسلام کا مددگار بنادیگی جیسے تاتاریوں کے زمانہ میں ہوا تھا جس پر علامہ اقبال نے یہ شعر کہا تھا

ہے عیاں یورش تاتار کے فسانوں  سے

پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے


🖋  ابرار بن زاہد قاسمی

گروپ میمبر✨کاروان امن و انصاف

Comments

Popular posts from this blog

آصفہ کی آہوں کا کچھ تو مداوا ہو!

ترکی کی نئی نسل