میں سمجھوں ہوں اسے دشمن جو مجھے سمجھائے ہے


   *میں سمجھوں ہوں اسے دشمن جو مجھے سمجھائے ہے!*
   حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کے عمومی نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا:"الدين النصيحة" (سنن دارمی:۲۴۷۰،۲۷۵۴)اس فرمان کی تشریح اگر کی جائے تو شاید دفاتر پہ دفاتر کم پڑ جائیں؛البتہ اتنا کہا جاسکتا ہے؛ کہ اس سے مراد انسانی زندگی کے ہر جائز شعبہ میں ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرنا ہے،ایک انسان کو اس کے رب سے ملا دینا،کسی معاملہ میں خواہ اس کا تعلق معاشرت سے ہو،سیاست سے ہو، فوج وحکومت سے ہو یا کسی اور فردی احکام سے ہی کیوں نہ ہو،اسلام کے ماننے والوں کی یہی وہ خیر خواہی اور تعلیمات اسلامی کی یہی وہ جامعیت تھی جس کی وجہ سے پوری انسانیت نے درستگی وصلاح اور انسان دوستی کا جام پیا تھا،اور عالم انسانی رشک کرو بیاں کا مرکز بن گیا تھا،جب کہ فرمان الہی "اني اعلم مالا تعلمون" کی تعبیر ہوگئی تھی،اور ایسا معلوم ہوتا تھا ؛کہ انسان کا جمگھٹا دراصل گل سرسبد ہو۔
     *اس کے برعکس آج شیطانی حربہ و نفس انسانی کی علو و برتری اور خود پسندی،انانیت کی پرستش نے پھر انسانی زندگی کو اسی "شفا حفرة من النار"کا مصداق بنا دیا ہے،اگر ایک طرف قحط الرجال میں  ناصحا افراد کی کمی ہے؛ تو وہیں دوسری طرف ایسے لوگوں کی قدر و منزلت نے گرد کارواں کی حیثیت پالی ہے،اور اسلام کا وہ امتیاز کہیں گم ہوتا نظر آتا ہے،اس کے ماننے والے یا تو النصیحہ کے مفہوم سے عاری ہیں یا پھر اس کے حاملین کے ساتھ  بے وقعتی و بے عزتی کا دور دوراں ہے،اعزاء واقرباء، دوست ورشتہ دار اور اپنے و پرائے حتی کہ استاد وشاگرد کی تفریق بھی بے جا معلوم ہوتی ہے،بسا اوقات مخاطب کا رویہ ایسا ہوتا ہے ؛کہ کسی دیرینہ دشمنی کی خلش لئے بیٹھے ہوں،آنکھیں چڑھی ہوئیں،بھنویں بگڑی ہوئیں اور ماتھے پر آئے بل سے ایسا اندازہ ہوتا ہے؛ کہ انتقام کی کوئی ہانڈی ان کے سینوں میں جوش ماررہی ہو،اور قریب ہو؛ کہ کسی زہر آلود خنجر سے حملہ آور ہوجائیں،یا اسے کسی وادی ذی ذرع میں "مال ضالہ"کے مثل بھول آئیں،یا کسی دور دراز کنوئیں کا قیدی بنادیں؛یہ دیکھ کر ناصحا کی حالت"وتظنون باالله الظنونا"سی ہوجاتی ہے۔*
    *ایسے میں دل ودماغ پر جیسے کوئی برف کی سل پڑگئی ہو اور یہ ثابت کرنے پر مجبور کرہی ہو کہ اپنے سینے مین دل نہیں؛بلکہ پتھر کی سل رکھ لی جائے،اپنی آنکھیں بند کرلی جائیں اور کانوں پر تالا ڈال دیا جائے،اور "صم بكم عمي " کا مجسمہ بن جائیں؛لیکن تب ہی قرآن کریم اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم و سلف صالحین کی جاں فشانیاں اور سنت الہی یاد آتی ہے،اور "آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی" کی راہ پر طائف کا واقعہ، احد اور حنین کی بے دلی یاد آتی ہے،تب امام مالک کا اپنے بازو کا اکھڑ وا لینا،امام ابوحنیفہ کا زہر نوش کرلینا،امام شافعی کا موت کے در سے لوٹ آنا اور امام احمد بن حنبل کا جبل صبر،امام ابن تیمیہ کا سلاخوں کے پیچھے دم توڑ دینا،مجدد الف ثانی کا پہاڑوں اور غاروں کی پیمائی کرنا یا د آتا ہے،اور دل بہت حد تک سکون واطمینان کے سمندر میں غوطہ زن ہوجاتا ہے،خدا جانے اس امت کو کیا ہوگیا ہے؟اسے کس سانپ نے سونگھ لیا ہے اور کس پرندے نے اسے خیر کو قبول کرنے اور عقل ودانائی کے باوجود فہم سلیم سے بانجھ وو بنجر کردیا ہے؟اور وہ کیوں اس شعر کے مصداق ہوگئے ہیں؟*
*ناصحا! مت کر نصیحت دل میرا گھبرائے ہے*
*میں اسےسمجھوں ہوں دشمن جو مجھے سمجھائے ہے۔*

       ✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
02/04/2018

Comments

Popular posts from this blog

آصفہ کی آہوں کا کچھ تو مداوا ہو!

ترکی کی نئی نسل