اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنانِ وقت کی طرف سے محاذوں کی تکثیر اور اسؤ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم

*اسلام اورمسلمانوں کے خلاف*

*دشمنانِ وقت کی طرف سے محاذوں کی تکثیر*

اور

*اُسوہٴ نبیِ اکرم محمدصلی اللہ علیہ وسلم*

بہ قلم مولانا نور عالم خلیل امینی‏

رئیس تحریر الداعی واستاذ ادب عربی‏، دارالعلوم دیوبند



ہم مسلمانوں کے لیے کائنات کی ہر چیز کی طرح دنوں اور سالوں کے اُلٹ پھیر اور اُن کی آمد و رفت میں بھی بے پناہ عبرت کا سامان موجود ہے۔ ہجری سال کی آمدِ نو توبہ طور خاص حق و باطل کی معرکہ آرائی میں حق کی جیت کے تعلق سے فیصلہ کن موڑ اور باطل کی یقینی شکست کے واضح اور غیرمبہم اِشارے کی یاد تازہ کرجاتی ہے اور فرزندانِ حق کو یہ یاددہانی کراجاتی ہے کہ شر کی بادِ صرصر، باطل کی دندناہٹ، کفر کی بلاخیز آندھی اور باغیانِ خدا و فرماں بردارانِ شیطان کی کرتب بازیوں و فسوں طرازیوں کے ہمہ گیر جھکڑوں کے باوجود جن سے بہت سی مرتبہ بہ ظاہر ایسا محسوس ہوتا کہ حق کا خیمہ ہمیشہ کے لیے اکھڑ جائے گا اور خیر کا وجود درہم برہم ہوجائے گا اور اس کے ہم نواؤں کے تمام کیے دھرے پر ہمیشہ کے لیے پانی پھرجائے گا؛ انھیں مایوسی اور ناامیدی کے آگے سپرانداز نہیں ہونا چاہیے کہ باطل کی انتہائی شرانگیزی اُس کی حرکتِ مذبوحی ہوا کرتی ہے؛ کیوں کہ اُس کا نصیبہ ہی شکست خوردگی اور بالآخر زیر ہوجانا ہے۔

حق و باطل کی آج کی کش مکش کوئی نئی بات نہیں۔ یہ کش مکش دونوں کے درمیان اسی وقت سے جاری ہے جب سے دونوں کا وجود ہے اور آیندہ بھی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دونوں کا باہم پایا جانا خدا کو منظور ہے۔ کش مکش کا رنگ و آہنگ زمانے اور جگہ کی تبدیلی کی وجہ سے تبدیل ہوتے رہیں گے لیکن کش مکش کی حقیقت تبدیل نہ ہوگی۔ بعض دفعہ ایسا محسوس ہوگا کہ باطل کا حملہ بے نظیر ہے اورایسا بھرپور ہے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی؛ لیکن درحقیقت، باطل کی یورش ہمیشہ ہی انتہائی قوت کے صرفے پر مبنی ہوگی۔ زمانے اورجگہ کے فریم میں وہ ہمیشہ غیرمعمولی ہوتی ہے۔ دوسرے زمانے کے تناظر میں وہ معمولی معلوم ہوتی ہے۔

بہ ہر صورت حق کے ساتھ باطل کی لڑائی کل بھی جاری تھی آج بھی جاری ہے۔ کل تیروتفنگ اور سیف و سناں کا زمانہ تھا، آج توپ وٹینک، میزائل اور بم، فضائی کارزار اور سائنس کے بازار کا زمانہ ہے؛ لہٰذا یہ کہنا صحیح نہ ہوگا حق کے ساتھ باطل کی کل کی جنگ آسان، ہلکی اور قابل تسخیر تھی اور آج کی جنگ بہت سخت گمبھیر اور ناقابلِ تسخیر ہے۔ کل کے چوکھٹے میں کل کی جنگ اتنی ہی دشوار گزار تھی، جیسی آج کے حالات کے دائرے میں آج کی جنگ۔ کل حق کا دفاع کرنے والے کل کے لوگ تھے اور آج حق کا دفاع کرنے والے آج کے لوگ ہیں۔ حق کی کل کی جنگ اہلِ حق نے جیت لیاتھا، آج کی حق کی جنگ بھی اَہلِ حق بالآخر جیت لیں گے اِن شاء اللہ؛ لیکن شرط یہی ہے کہ کل کے اہلِ حق ہی کی طرح آج کے اہلِ حق میں اخلاص، جذبہٴ قربانی اور اِیثار کی فروانی ہو؛ ورنہ جنگ کا دورانیہ طویل، آزمایش کی گھڑی دراز، جیت کا موقع موٴخر، نقصان کا احتمال زیادہ اور صبر کے امتحان کی مدت قدرے طویل ہوجائے گی؛ جس کی وجہ سے بادی النظر میں ایسا محسوس ہوگا کہ باطل فتح مند اور حق شکست خوردہ ہوگیا ہے اور باطل پرستوں کی طرف سے اہلِ حق کو دل خراش طعنوں اور خدائے حکیم کی طرف سے اصلی ونقلی اِیمان کی پرکھ کے عمل سے گزرنا ہوگا جو بہت سی دفعہ قلیل الصبر حق پرستوں کے لیے بہت مشکل ثابت ہوگا۔

اِسلام دشمن طاقتیں آج اِسلام کے خلاف متحدہوکر اِس طرح اُس پر ٹوٹ پڑی ہیں کہ ہر خاص و عام کی زبان پر ہے کہ اسلام کے خلاف اس کے دشمنوں کی ایسی یگانگت، ایسا اتحاد، ایسی یک جائی کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اسلام سے لڑنے، اُس کا پیچھا کرنے، اُس کوگھیرنے اور ہرطرف سے اُس پر راہ بند کردینے کی ہرتدبیر سے کام لیا جارہا ہے، ہرذریعے کو آزمایا جارہا ہے، ہرطریقہٴ پیکار کو استعمال کیا جارہا ہے اور ایک کے بعد دوسرا محاذ کھول کر فرزندانِ اِسلام کو ہرمحاذ پر مشغول کرکے اُن کی طاقت کو منتشر کردینے اور فیصلہ کن اور آخری مزاحمت سے انھیں باز رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ فرزندانِ اسلام غافل اور محوِ استراحت ہیں اور دشمنانِ اسلام ہمہ وقت محوِ فکر وعمل ہیں۔

محاذوں کی تکثیر اور جنگی کارراوائیوں کے مراکز کا تنوع، اِسلام سے برسرِ پیکار طاقتوں کے کارگر اور ترجیحی طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے، جس پر وہ ماضی میں بھی کاربند رہی ہیں۔ انھیں یقین رہا ہے کہ اگراسلام کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے محاذ ایک دو ہی رہیں گے، تو فرزندانِ اسلام کے لیے، ان سے نمٹنا اور حساب بے باق کرنا آسان ہوگا؛ لیکن محاذوں کی کثرت اور اُن کے متنوّع ہونے کی صورت میں دشمنانِ اسلام کے بہ زعم اہلِ اسلام کے لیے اُن سارے محاذوں پر، اُن سے لڑنا آسان نہ ہوگا نتیجتاً وہ شکست کھاجانے، اُن کے سامنے سرنگوں ہوجانے اور ان کے لیے جیت کو تسلیم کرلینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔

محاذِ جنگ کی تکثیر اوراس کو نوع بہ نوع کرنے کی پالیسی پر ہی آج اسلام دشمن طاقتیں عمل پیرا ہیں۔ دوسری طرف انھوں نے اپنی صفوں میں اتحاد ویک جہتی کی ایسی مثال قائم کی ہے، جو دیدنی بھی ہے اور باعثِ عبرت بھی۔ باعثِ عبرت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے درمیان اختلاف و تضاد کے اتنے سارے عوامل پائے جاتے ہیں کہ اُنھیں کسی بھی حال میں متحد نہیں ہونا چاہیے تھا؛ بلکہ انھیں ہمیشہ اورہر طرح متحارب یا متصادم رہنا چاہیے تھا۔ یہ زمانے کی نیرنگی اوراس کے عجائبات میں سے ہے کہ اختلاف کے لاتعداد محرکات کے باوجود صرف ایک محرک یعنی اِسلام دشمنی نے انھیں متحد اور متعاون بنادیا ہے۔ ان کے عقیدے مختلف ہیں، رجحانات ومیلانات مختلف ہیں، عبادتوں اور پرستشوں کا انداز مختلف ہے؛ ساتھ ہی ان کے مقاصد و مفادات، ان کی نسلوں اور جنسوں، رنگوں اور ملکوں، معبودوں اور عقیدتوں کے محوروں میں نہ صرف اختلاف؛ بلکہ بالکل تضاد پایا جاتا ہے۔ ان میں سے کسی کے بت پتھر کے ہیں، تو کسی کے صنم لکڑی کے، کسی کے معبود گڑے ہیں تو کسی کے کھڑے، کسی کے پڑے ہیں تو کسی کے بیٹھے!۔ لیکن اُن کے درمیان ایک قدرے مشترک ہے اور وہ ہے اسلام دشمنی، جس نے سارے تضادات کے باوجود انھیں ایک بنادیا ہے۔ کیا یہ بات ہم مسلمانوں کے لیے درس انگیز نہیں کہ ہم مسلکوں اور مکاتب فکر کے اختلاف کے باوجود لا اِلٰہ اِلا اللہ محمد رسول اللہ کے قدر مشترک پر متحد ہوکر باطل کو راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیں تاکہ خدا کی کائنات امن کی جنت، سکون کا گہوارہ، راحت کی جا اور انسانیت کی جائے پناہ اسی طرح بن جائے جس طرح کہ خدانے چاہا ہے اور خدا کے نبی نے جس کو برپا کرکے دکھادیا ہے!۔

$ $ $

محاذوں کی تکثیر کی کارروائی کے ضمن میں ہی، خلافتِ عثمانیہ کے پرزے اُڑائے گئے، جو اپنی تمام خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود اِسلام اور مسلمانوں کے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتی تھی۔ نیز اِسی پالیسی کے تحت اللہ پاک کی محبوب و مقدس اور مبارک سرزمین، یعنی مسجد اقصیٰ و فلسطین کی بعثتِ انبیا کی سرزمین میں، جو خالص اِسلامی اور عربی سرزمین ہے، اِسرائیل کے ناپاک درخت کی زور زبردستی سے اور مکمل ظالمانہ وغاصبانہ طور پر کاشت کی گئی۔ پھر اسرائیل کو طاقتور ترین بنادینے کے لیے کوشش کی گئی کہ وہ عسکری و اقتصادی طور پر خود کفیل ہوجائے اور باقی ماندہ اَرضِ فلسطین کو ہڑپ کرکے فلسطینیوں کو خانما برباد کردے اور جو وہاں رہ جائیں انھیں ہمہ گیر طورپر ”اَدب“ سکھاتا رہے اور دوسری طرف اِسرائیل کے سامنے کے عربی ممالک اور پڑوسی اِسلامی و عربی ریاستوں کو اِس درجہ ناتواں، غیرمسلح، بے دم اور بے دست و پاکردیا جائے کہ اسرائیل جب چاہے ان کے اینٹ کا جواب پتھر سے دے اور ان کی طرف سے فرضی خوف اور عدمِ تحفظ کے اِحساس کا ڈھنڈورا پیٹ کر عالمی رائے عامہ بالخصوص یورپ اور امریکہ کی ”ضرورت“ سے زیادہ ہمدردی اورہم نوائی اور مادی و معنوی تعاون سے بہرہ ور رہے۔

نیز اسی پالیسی کے تحت اِسرائیل کو کھل کر اِس کا موقع دیاگیا کہ وہ باقاعدہ اِیٹمک ملک بن جائے اور سیکڑوں نیوکلیر ہیڈس کا مالک بن بیٹھے دوسری طرف دوہرے پیمانے کی اساس پر، بلکہ دشمنانہ رویے کے تحت پڑوس کی ہر عربی اورپوری دنیا کی ہر اِسلامی ریاست کو ”ایٹمک غلیل“ کے حصول سے بھی نہ صرف باز رکھا گیا؛ بلکہ اس حوالے سے محض سوچنے پر بھی نہ صرف یہ کہ بدترین انجام کی دھمکی دی گئی؛ بلکہ ”خارش زدہ اونٹ“ کی طرح اس کو پوری دنیا سے الگ تھلگ کردینے اور اس کی شبیہ کو ایسا مکروہ بنادینے کی کوشش صرف کی گئی کہ عالمی برادری کو اس سے ہمیشہ کے لیے گھن آجائے اور اس پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑنے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کے لیے وقت، مال، سیاست کاری، سفارت کاری، دھونس دھمکی کا اتنا بڑا اثاثہ صرف کیاگیا کہ اس سے بہت کم اثاثے کے ذریعے دنیا کی ساری بے انصافیوں کا علاج، غربت کاخاتمہ، ناخواندگی کا انسداد، بیماریوں کا صفایا، استبداد کے تریاق کی تلاش اور اُلجھے ہوئے معاشی اور سیاسی مسئلے کا معقول اوراطمینان بخش حل ڈھونڈا جاسکتا تھا، بشرطے کہ نیت سچی ہوتی، انسانیت کا واقعی درد ہوتا، ظلم سے سچ مچ نفرت ہوتی، اسلام دشمنی سے عقل کی بصیرت اور آنکھ کی بصارت سے محرومی کا روگ اہلِ مغرب اور امریکہ کیلئے لاعلاج بیماری نہ بن گیا ہوتا اور دوہرے پن، نفاق، اور عصبیت کی تہ بتہ تاریکیوں کی وجہ سے اُن کے دل اور ضمیر کا چپہ چپہ شبِ دیجور کے لیے شرمندگی کا باعث نہ ہوگیا ہوتا۔

اسلام کے خلاف تکثیر محاذ ہی کی پالیسی کے تحت بڑے ممالک بالخصوص امریکہ اور یورپ نے اپنے لیے ایٹمک پروگراموں کی تخلیق، تعمیر اور ترقی کو نہ صرف جائز رکھا؛ بلکہ ان گنت نوع کے جہنمی اسلحے اور وسیع تر تباہی کے ہتھیار بنائے اور اہلِ مشرق بالخصوص مسلمانوں پر انھیں آزمایا اور انھیں اپنا غلام بنائے رکھنے اور ترغیب و تخویف کے ذریعے ان کی دولت کو چوسنے کے ساتھ ساتھ، ان کی تہذیب و ثقافت، تعلیم و تربیت، دین و روایت، طرزِ زندگی اور نظامِ حکومت کو مغربی اورامریکی بنا دینے کی کوشش کی اورہنوز کررہے ہیں اور حکم دیا جارہا ہے کہ جو کہا جارہا ہے وہی کرو ورنہ ہم تم سے کروانے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔

دنیا والے امریکہ اور دگر بڑی طاقتوں سے جن کے پاس زبردست نیوکلیر پروگرام، نیوکلیر اسلحے اور تباہ کن عسکری صلاحیتیں، اور ظالمانہ ریکارڈس اور سابقہ جارحانہ عزائم کا پشتارہ موجود ہے اور جو اپنی غیرمعمولی عسکری صلاحیتوں کی وجہ سے ہی پوری دنیا کو روندنے میں لگی ہوئی ہیں اور پاگل پن اور طاقت کے نشے سے چور سانڈ کی طرح ہرقوم، ملک، تہذیب وثقافت اور تاریخ و روایت سے سرٹکراتی اور سینگ لڑاتی پھررہی ہیں ان طاقتوں سے دنیا والے یہ کیوں نہیں کہتے کہ تم کو اگر واقعی اِنسان کی تباہی اور دنیا کی بربادی کا خوف ستارہا ہے، تو دنیا کے کمزورملکوں پر نیوکلیر پروگرام سے دست برداری کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے زور ڈالنے سے پہلے تم اپنے اپنے تباہ کن نیوکلیر پروگراموں سے از خود دست بردار کیوں نہیں ہوجاتے، تاکہ تمہارا عمل سبھوں کے لیے خود دعوتِ عمل بن جائے؟! تم دوسروں کو غیرمسلح ہوجانے کی دعوت دیتے ہو اور خود اسلحے کے سب سے بڑے خالق، تاجر، برآمد کنندہ اور ان کے ذریعے ظلم و جارحیت کے سب سے بڑے علم بردار بنے بیٹھے ہو۔ دنیا سب سے زیادہ تمہارے ہاتھوں ہی برباد ہورہی ہے، پوری دنیا عموماً اور عالم اسلام خصوصاً صرف تمہاری ہی دہشت گردی سے زیر و زبر ہورہی ہے اور انسانیت کی قبا تمہارے ہاتھوں ہی چاک ہورہی ہے۔ تم اگر ظلم سے ہاتھ اٹھالو تو دنیا از خود امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ ظلم کے سارے انداز تمہارے ہی تراشیدہ ہیں، بگاڑ کی ساری راہیں تمہی نے دکھائی ہیں، شروفساد کی ساری طرحیں تمہی نے ڈالی ہیں۔ تمہارے زوال کے دور میں انسانیت بدامنی سے نا آشنائے محض تھی، تمہارے عروج نے دنیا کو جہنم کدہ بنادیا ہے۔

الغرض اے امریکہ والو! اور اے فرزندانِ مغرب! اور اے بڑی طاقتوں کے بُرے لقب سے جانے جانے والو، جو ظلم اور ناانصافی کا رمز بن چکا ہے! تم قول و عمل کے تضاد سے جس وقت ”شفایاب“ ہوجاؤگے، یہ چھوٹے چھوٹے ممالک از خود راہِ راست پر آجائیں گے، جو پہلے سے بھی تمہاری طرح بے راہ رو اور ظلم وجارحیت کے پجاری نہیں ہیں۔ تمہیں شرم نہیں آتی کہ زبردست تباہی کے ہتھیاروں کے طفیل ہی تم نے دنیا پر اپنی چودھراہٹ قائم کررکھی ہے اور اپنی چودھراہٹ کو دوام اوراستحکام دینے کے لیے، کمزور ملکوں کو بالکل تہی مایہ ہوجانے اوراسلامی ملکوں کو تو اور بھی بالکل بے شناخت ہوجانے کی نہ صرف دعوت دیتے ہو؛ بلکہ زور زبردستی سے اپنا حکم ان سے منوانا چاہتے ہو؟!۔ یہ انصاف کی کون سی منطق ہے کہ تم تو پہلے سے زیادہ طاقت ور اور عسکری صلاحیتوں کی افزودگی اور ترقی کے بامِ عروج پر 

Comments

Popular posts from this blog

آصفہ کی آہوں کا کچھ تو مداوا ہو!

ترکی کی نئی نسل