افغانستان میں حفاظ کی شہادت اور دور نبوی صلی الله عليه وسلم
*افغانستان میں حفاظ کی شہادت اور دور نبوی صلی الله عليه وسلم*
شنید ہے کہ افغانستان کے ایک علاقے میں مدرسے پر امریکی طیاروں کی بمباری سے ایک سو سے زائد بچے اور عوام شہید ہوگئے ہیں جبکہ بمباری ایسے وقت میں کی گئی جب وہاں پر حفظ قرآن پاک مکمل کرنے والے بچوں کی دستار بندی تھی جس کی وجہ شہید ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد حفاظ کرام کی ہے۔۔
مجھے تو کتابوں میں پڑا نبی کریم صلی الله عليه وسلم کے مبارک زمانے کا ایک دلسوز واقعہ یاد آگیا کہ ایک کافر قبیلے کے کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئے اور اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے قبیلے میں دین سکھانے کیلئے کچھ حفاظ و قاری بھیج دیجیے جو ہمیں قرآن کی تعلیم دیں، نبی کریم نے اپنے ستر حفاظ صحابہ کو اس وفد کے ہمراہ روانہ کر دیا لیکن وہ لوگ تو کسی اور منصوبہ بندی کے تحت یہ سارا معاملہ کر رہے تھے جس سے اس وقت آپ علیہ السلام کو باخبر نہ کیا گیا تھا، بہرحال وہ لوگ صحابہ کو لے کر چلے جاتے ہیں، جب صحابہ کرام اس بستی میں پہنچتے ہیں تب ان پہ حقیقت آشکار ہوتی ہے، ان کو شہید کرنے کی تیاری مکمل ہوتی ہیں اور ایک ایک کر کے سب کو شہید کر دیا جاتا ہے۔۔۔
دوسری طرف جب اس واقعہ کی اطلاع نبی کریم صلی الله عليه وسلم تک پہنچی تو وہ نبی جو طائف میں پتھر کھا کر بھی نہ رویا، وہ پیغمبر جس کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹا گیا، وہ خدا کا پیارا جس پر نماز کے دوران اوجھریاں پھینکی گئی مگر اس کے ماتھے پہ شکن تک نہ آیا مگر جب اس واقعہ کی اطلاع ملتی ہے تو اللہ کے رسول صلی الله عليه وسلم چالیس دن تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھ کر ستر حفاظ کو شہید کرنے والوں کیلئے بدعائیں کرتے رہے۔۔۔
آج پھر کافر نے اسی تاریخ کو دھرایا ہے مگر افسوس کہ اب کی بار ہم جیسے برائے نام مسلمان ہیں جو خود اپنی زندگیوں کو کفار کے طور طریقوں پر ڈھال چکے ہیں، ان کی باتوں کو حرف آخر تسلیم کر چکے ہیں، ان کے دعووں کو خدا مان چکے ہیں، وہ کہہ دیں کہ یہ لوگ دہشت گرد تھے ہمیں بھی سر خم تسلیم کرنا پڑے گا، ان کی دشمنی مول لینا گویا غلام کو آقا سے دشمنی کرنے کے مترادف ہے، ہاں اگر ہم کچھ نہیں کر سکتے تو کم سے کم اس سنت کو ہی زندہ کرلیں جو ایسے موقع پر نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے امت کو سکھائی تھی، آپ مسجد کے خطیب ہیں، امام ہیں تو پھر دیر مت کیجیے کل سے قنوت نازلی کا اہتمام کیجیے اور اگر مجھ جیسے مقتدی ہیں تو اپنی مسجد کے امام صاحب سے کہہ کر اس عمل کا آغاز کیجیے اس امید کے ساتھ کہ
شکوہ ظلمت شب سے تو کئی بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
Comments
Post a Comment