آج پوری دنیا کے اندر مسلمان پستی میں کیوں جارہے ہیں۔۔؟؟؟


*🌍  آج پوری دنیا کے اندر مسلمان پستی میں کیوں جارہے ہیں۔۔؟؟؟*

حضرت مولانا الیاس رحمہ اللہ علیہ نے جب دعوت کا کام شروع کیا تو آپ کو یہ خیال ہوا کہ یہ کام تو عربوں کا ہے، لھٰذا آپ ۳۰ علماء کرام کی ایک جماعت لیکر حجازِ مقدس پہنچے .اس جماعت میں مولانا یوسف اور مولانا انعام الحسن رحمہ اللہ علیہم بھی تھے .اس موقع پر آپ نے وہاں چاروں مسلک ( حنفی شافعی مالکی حنبلی) کے علماء کرام کو مدرسہ صولتیہ میں جمع فرماکر خطاب فرمایا.
بیان کے دوران آپ نے سب علماء سے خطاب کیا: میرا ایک سوال ہے؟ آپ حضرات اس کا جواب دیں -
آپ لوگ بتلائیں کہ پوری دنیا کے اندر مسلمان پستی میں کیوں جارہے ہیں؟ اور انحطاط کیوں ہورہا ہے؟
ایک نے جواب دیا: علم کی کمی کی وجہ سے،
آپ نے پوچھا کون سا علم؟
اس نے کہا: دنیا کا علم تو ہے لیکن دین کا علم کم ہے -
آپ نے جواب دیا: خدا کی قسم بتاؤ صحابہ (رضی اللہ عنہم) کتنے تھے؟
جواب دیا: ڈیڑھ دو لاکھ -
اس میں سے حافظ کتنے تھے،؟
جواب دیا: بہت تھوڑے-
آپ نے کہا : آج پوری دنیا میں حفاظ دس لاکھ سے کم نہی ہوں گے -
پھر آپ نے کہا: بخاری ومسلم کے حافظ کتنے تھے؟
جواب دیا: کوئی نہیں -
آپ نے کہا : آج صحاحِ ستّہ پڑھنے پڑھانے والے ہزاروں سے ہوں گے—
پھر ایک دوسرے عالم نے کہا: مال کی کمی -
آپ نے سوال کیا، بتاؤ صحابہ کے پاس کتنا مال تھا؟
صحابہ کے پاس تو اتنا بھی مال نہیں تھا کہ دو وقت کا کھانا کھالیں -
ایک دوسرے عالم نے کہا کہ تنظیم نہیں ہے -
آپ نے فرمایا کہ کون کہتا ہے کہ نظم نہیں ہے - آج ایک ایک مسلمانوں کی جماعت ملکر لاکھوں تک ہے اور ان کا امیر بھی ہے، اور سارے صحابہ دو لاکھ بھی نہیں تھے -
پھر سب نے ملکر کہا: ائے شیخ الیاس اب آپ ہی بتلائیں کہ وجہ کیا ہے کہ مسلمان ذلت وپستی میں گرتے جارہے ہیں اور انحطاط کے شکار ہو رہے ہیں؟
آپ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا: میرے نزدیک اس کا ایک سبب یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے اندر ایمان ویقین کی کمزوری ہے اور یہی اصل سبب اور وجہ ہے -
حضرت کا اتنا کہنا تھا کہ سارے علماء کا مجمع دھاڑیں مار کر رونے لگا ' کہ سچ کہا تو نے ائے الیاس! ہم میں واقعی ایمان ویقین کی کمزوری ہے - اس لئے ہم لوگ فتوے بدلتے رہتے ہیں - روپیہ ملا تو فتوی بدل دیا؛ ہم ڈر کے مارے بولتے نہیں ہمارے سامنے بے دینی اور بے ایمانی پھیل رہی ہے ؛ آپ نے سچ فرمایا -
اس کے بعد آپ نے مزید وضاحت فرمائی: اگر ہم لوگوں کا یقین اللہ پر آجائے اور اس کے ساتھ صفاتِ ایمانیہ زندہ ہوجائیں، امید صرف خدا پر رہے، بھروسہ اور آسرا صرف خدا پر ہی آجائے، ڈر اور خوف صرف خدا کا ہی رہے، عشق وشوق صرف خدا کا ہی رہے، اور آج ہم ایمان کی جڑیں لگا کر اسے مضبوط کرکے ایمانی صفات پر آجائیے اور ان ہی ایمانی صفات کو زندگی کے تمام شعبوں میں اپنالیں تو آج بھی خدا ہمیں کامیاب کرےگا، جیسے صحابہ کرام کو کامیاب کیا تھا -
سب نے روتے ہوئے کہا: کہ آپ نے حق فرمایا: اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہی ہے -
آپ نے فرمایا واقعی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہی ہے
کیونکہ صحابہ کامل ایمان رکھتے تھے ، ہر ایک کا ایمان قوی تھا کسی کا ایمان کمزور نہی تھا، علم ان کے پاس ایک سورت کا ہو یا پورے قرآن کا، دین کاعلم تھوڑا جانتے ہو یا زیادہ مگر ایمان ان کا کامل تھا -پھر آپ نے کہا: آپ حضرات سے مشورہ یہ ہے کہ ایمانی طاقت کس طرح بنے گی؟
سب نےکہا: یہ زمانہ بہت سخت ہے، قربِ قیامت کا دور ہے -اب ایمان کی طاقت واپس آنے کا دور ختم ہو چکا اب تو قیامت آئے گی اور ہم سب کو مٹا کر ختم کر دے گی—
آپ نے فرمایا:  لَا تَقنَطُوا من رحمة اللہ اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو. جس اللہ نے پہیلے دور میں ایمان کی طاقت بنائی تھی وہی اللہ آج کےدور میں بھی مسلمانوں میں ایمان کی طاقت پیدا کرسکتا ہے -
ان لوگوں نے پوچھا وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا وہ دعوت الی اللہ کے ذریعہ ہوگا -
ان میں سے ایک عالم نے کہا: دعوت الی اللہ تو کفار کو دی جاتی ہے -ہم اور آپ مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط بنانے کیلئے کون سا کام کریں گے؟
کیا ان کو دعوت دیں گے؟
اس پر آپ نے روتے ہوئے فرمایا: کہ پہیلے غیر مسلموں کو دعوت دی جاتی تھی کہ وہ دعوت کے لائق ہیں، کیونکہ ایمان ان سے نکلا ہوا ہے، اور آج ہم مسلمان اندر سے خراب ہو چکے ہیں -
ہمارا ایمان لا ایمان ہو رہا ہے، ہمارا اسلام لا اسلام ہو رہا ہے،
ہمارا دین لا دین ہورہا ہے، ہماری اسلامی زندگی ساری کی ساری غیر اسلامی ہو رہی ہے،
ہم لاکھ ایمان واسلام کا نام لیں اور پکاریں اور اپنے آپ کو مسلمان کہے لیکن ہمارے اندر ایمان نہی رہا کیونکہ وہ اندر سے غائب ہے -
جس دعوت سے ایمان غیر کے اندر جاسکتا ہے اسی دعوت سے ایمان اپنے اندر کیوں نہی آسکتا اور جودعوت غیروں کو ایماندار بناسکتی ہے وہ اپنوں کو کیوں نہی بناسکتی؟
فرق صرف اتنا ہے ہم دوسروں کو غیر سمجھ کر دعوت دیتے تھے اور انہیں اپنا سمجھ کر دعوت دیں گے—

📚 خطـــــبـ۔ـاتِ سلـ۔ـف ج ۲ ص ۱۳۳ ۔

Comments

Popular posts from this blog

آصفہ کی آہوں کا کچھ تو مداوا ہو!

ترکی کی نئی نسل