ملک کی موجودہ صورتحال اور مسلمانوں کی مجرمانہ غفلت
*ملک کی موجودہ صورتحال اور مسلمانوں کی مجرمانہ غفلت*
*اے موجِ حوادث اِن کو بھی*
*دو چار تھپیڑے ہلکے سے*
*کچھ لوگ ابھی تک ساحل پر*
*طوفان کا نظارہ کرتے ہیں*
کچھ دنوں سے جس طرح ہندوستان میں مسلم مخالف فضاء چل پڑی ہے اور جس طرح کی سازشیں ہو رہی ہیں اور ہم پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ۔ہمارے جان پر مال پر عزّت و عصمت پر جس طرح حملے ہو رہے ہیں ہماری شناخت ہم سے چھینی جا رہی ہے اور مختلف علاقوں میں جس طرح منظّم طریقے سے فساد کرائے جا رہے ہیں ۔
کیا ہم یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے، کیا ہم اس انتظار میں بیٹھے رہیں گے کی ابھی طوفان دور ہے ہم خواب خرگوش میں پڑے رہیں کی ہم سکون سے ہیں ۔تو سُن لو مسلمانوں تم بھول پر ہو تم خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہو ۔
اُٹھ جاؤ نوجوانوں اِس پہلے کی طوفان تمہارے دروازے پر کھڑا تمہیں منہ چڑا رہا ہو
اس پہلے کی تمہارے گھر کی عصمتیں محفوظ ہیں
اس پہلے کی عزّتیں محفوظ ہیں ۔
اُٹھ جاؤ نوجوانوں غفلت کی چادر پھینک دو ،عزم کرلو، لوٹ آؤ۔
کیا تم اتنے بے غیرت ہو گئے ہو کی تمہاری بہنوں کی عصمتوں سے کھلواڑ ہو رہا ہے، عزّتوں، عصمتوں کو پامال کیا جارہا ہے روز نہ جانے کتنی بہنیں گمراہ ہو رہی ہیں اور تم یوں مجرمانہ غفلت میں پڑے ہو ۔
اے نوجوانوں کیا تمہارا کلیجہ نہیں کٹتا یہ سب سُن کر بھی اور دیکھ کر بھی کتنے ہی نوجوان ایسے ہوں گے جن کا گھر اِس المناک سانحہ سے گزرا ہوگا، اور پھر بھی تم کو غیرت نہیں آتی۔ کیوں ایسا ظلم کر رہے ہو اپنے آپ پر کیوں تم ایسے تو نہیں تھے تم تو وہی قوم ہو جس کی ایک بہن سندھ سے پکار لگائی تھی اور تم پہنچ گئے تھے اپنی غیرت کا ثبوت لیکر آج کتنی بہنیں کتنی مائیں پکار رہی ہیں تمہاری راہ دیکھ رہی ہیں.
آؤ نوجوانوں، پروانوں آو ہم اِن کو بتا دیں کی ہم ایک زندہ قوم ہیں تم کو خدا کا واسطہ لوٹ آؤ، آؤ کی تمہاری مائیں، بہنیں تمہاری راہ تکتی ہیں ۔
*شفیع اللہ خان، کوکن*
✨کاروانِ امن و اِنصاف
*اے موجِ حوادث اِن کو بھی*
*دو چار تھپیڑے ہلکے سے*
*کچھ لوگ ابھی تک ساحل پر*
*طوفان کا نظارہ کرتے ہیں*
کچھ دنوں سے جس طرح ہندوستان میں مسلم مخالف فضاء چل پڑی ہے اور جس طرح کی سازشیں ہو رہی ہیں اور ہم پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ۔ہمارے جان پر مال پر عزّت و عصمت پر جس طرح حملے ہو رہے ہیں ہماری شناخت ہم سے چھینی جا رہی ہے اور مختلف علاقوں میں جس طرح منظّم طریقے سے فساد کرائے جا رہے ہیں ۔
کیا ہم یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے، کیا ہم اس انتظار میں بیٹھے رہیں گے کی ابھی طوفان دور ہے ہم خواب خرگوش میں پڑے رہیں کی ہم سکون سے ہیں ۔تو سُن لو مسلمانوں تم بھول پر ہو تم خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہو ۔
اُٹھ جاؤ نوجوانوں اِس پہلے کی طوفان تمہارے دروازے پر کھڑا تمہیں منہ چڑا رہا ہو
اس پہلے کی تمہارے گھر کی عصمتیں محفوظ ہیں
اس پہلے کی عزّتیں محفوظ ہیں ۔
اُٹھ جاؤ نوجوانوں غفلت کی چادر پھینک دو ،عزم کرلو، لوٹ آؤ۔
کیا تم اتنے بے غیرت ہو گئے ہو کی تمہاری بہنوں کی عصمتوں سے کھلواڑ ہو رہا ہے، عزّتوں، عصمتوں کو پامال کیا جارہا ہے روز نہ جانے کتنی بہنیں گمراہ ہو رہی ہیں اور تم یوں مجرمانہ غفلت میں پڑے ہو ۔
اے نوجوانوں کیا تمہارا کلیجہ نہیں کٹتا یہ سب سُن کر بھی اور دیکھ کر بھی کتنے ہی نوجوان ایسے ہوں گے جن کا گھر اِس المناک سانحہ سے گزرا ہوگا، اور پھر بھی تم کو غیرت نہیں آتی۔ کیوں ایسا ظلم کر رہے ہو اپنے آپ پر کیوں تم ایسے تو نہیں تھے تم تو وہی قوم ہو جس کی ایک بہن سندھ سے پکار لگائی تھی اور تم پہنچ گئے تھے اپنی غیرت کا ثبوت لیکر آج کتنی بہنیں کتنی مائیں پکار رہی ہیں تمہاری راہ دیکھ رہی ہیں.
آؤ نوجوانوں، پروانوں آو ہم اِن کو بتا دیں کی ہم ایک زندہ قوم ہیں تم کو خدا کا واسطہ لوٹ آؤ، آؤ کی تمہاری مائیں، بہنیں تمہاری راہ تکتی ہیں ۔
*شفیع اللہ خان، کوکن*
✨کاروانِ امن و اِنصاف
Comments
Post a Comment