اخوان المسلمین اور تبلیغی جماعت

*اخوان المسلمین اور تبلیغی جماعت* 

✍ *عبد المالک ازہری*
------------------------------------

میں جب تبلیغی سال میں چل رہا تھا تو میرے ساتھ ایک اور عالم دین بھی سال لگا رہے تھیں،  انہوں نے مجھے بتایا کہ میں امت میں انقلاب برپا کرنے والی تحریکوں میں سے دو تحریکوں سے بے حد متاثر ہوں۔
 (۱)  اخوان المسلمین سے
(۲) تبلیغی جماعت سے

میں اس وقت تبلیغی جماعت سے تو اچھی طرح واقف تھا کہ ان کا طریقہ کار اور دائرہ کار کیا ہے لیکن شیخ حسن البنا رح کی اخوان المسلمین کے تعلق سے بے خبر تھا ،اخوان کا نام تو سنا تھا لیکن اس کے بانی اور مؤسس  کا نام پہلی بار سنا تھا، اب جبکہ میرے ایک مشفق ساتھی نے (حسن البنا کی ڈائری) نامی کتاب کے چند منتخب اوراق بھیجے جن میں ان کی پوری تحریک کا خلاصہ تھا، اس کتابچہ کے مطالعہ کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ان دونوں تحریکوں میں بہت فاصلہ اور مشرق و مغرب کا فرق ہے اور میں یہ لکھنے پر مجبور ہوگیا کہ کہاں وہ اخوانی نور اور کہاں یہ تبلیغی تحریفی ریلا ۔

*امتیاز کی وجہ*

دونوں میں امتیاز کی وجہ یہ ہے کہ اخوان المسلمین کے عزائم بہت بلند تھے، وہ لوگوں کو صوم و صلاۃ سے لیکر حکومت کی کرسی تک لے جانا چاہتے تھے۔ جس کے بغیرمکمل نظام اسلامی ناممکن ہے، آج حکومت کے حصول کو اکثر لوگ اور خصوصا تبلیغی حضرات گناہ سمجھتے ہیں، جبکہ حکمرانوں کی چاپلوسی کو ثواب سمجھتے ہیں، شیخ حسن البنا کی تحریک کا مقصد  مسلمانوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور سیاسی ترقی بھی تھا، جس کو وہ بتدریج حاصل کرتے چلے گئے، انہوں نے کسی ایک طریق کو خاص نہیں کیا تھا بلکہ ہر آئے دن نئے نئے طرز اپنا کر بالآخر حکومت کی کرسی پر بیٹھ کر اسلام کے اصلاحی، معاشی، اقتصادی، سیاسی، عدالتی نظام کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہے تھے ،یہاں تک کہ جب مسجد اقصی کے لئے خون کی ضرورت پڑی تو اپنے ہزاروں کارکنوں کو جہاد کے لئے بھیج دیا، لیکن یہ نظام یھود و نصاری کو کہاں تک بھاتا جو اسلام کے ازلی دشمن ہیں ،   اس سلسلہ کو فوجی بغاوت اور مسلم منافق حکمرانوں کے تعاون سے ختم کروادیا گیا، لیکن آج بھی اس تحریک کے تمام کارکنوں میں وہ جوش و ولولہ اور متانت و سنجیدگی موجود ہے جو شیخ حسن البنا ان کو دیکر گئے تھے۔

اب آتے ہیں تبلیغی جماعت کی طرف،  اس جماعت کا پہلے دن سے دعوی ہے کہ ہمارا مقصد *احياء ماجاء به النبي صلي الله عليه وسلم* ہے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا مکمل دین زندہ کرنا، لیکن طریقہ کار اور دائرہ کار اتنا محدود کہ لوگوں کو صوم و صلوۃ اور ڈاڑھی ٹوپی ، اور خطابت کی کرسی سے زیادہ  کچھ نہ دے سکے ، اور اسی کو زندگی کا مقصود اور منتہاء بتایا حلانکہ دعوی کچھ اور تھا، اور اپنے اس محدود نفع کے خاطر دنیا کا ہر کونا چھان مارا، اور ہر چہار جانب اپنے کارکن بٹھادئے، لیکن نوے سال کے عرصے میں  صرف مرکز نظام الدین اور اس کے اطراف میں وہ  اسلامی ماحول نہ بنا سکے جو شیخ حسن البنا نے صرف بیس سال کے قلیل عرصے میں پورے مصر میں قائم کیا تھا، تبلیغی جماعت کا دعوی تو تھا پورے دین کا اور آج تک اپنے بیانات میں بھی اسی کا تذکرہ کرتے آرہے ہیں، لیکن جب کہیں باطل طاقتوں سے پنجہ آزمائی کا وقت آتا ہے تو مصلحت کا سہارہ لے کر صاف مُکر جاتے ہیں، اخوان نے تو مسجد اقصی کے لئے اور اسلامی نظام کے لئے اب تک اپنے ہزاروں افراد کو راہِ وفا میں پیش کردیا، لیکن تبلیغی جماعت کا حال یہ ہے کہ جب گجرات اور مظفرنگر میں خون کی ضرورت پڑی تو خود مظلوموں ہی کو اعمال کی خرابی کا طعنہ دینے لگے، اسی طرح اسرائیل کے دار الحکومت تل ابیب میں موجود تبلیغی مرکز میں جب مسجد اقصی کی فریاد پہونچی تو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ہمارا سیاست و حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں، ہمارا خلیفہ نیتن یاہوں ہے، ہم تو اسی کے قانون پر عمل کرتے ہیں،

 *بھیڑ کی وجہ*

تبلیغی جماعت میں بھیڑ کے جمع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دعوی کیا پورے دین کا، پھر اس دعوی کو سچا کرنے کے لئے دین کے تمام شعبوں کے فضائل کو توڑ مروڑ کر اپنے خاص طریقہ پر چسپا کردیا اور پھر جسارت یہ کہ اسی طریق کو کامل دین، کارِنبوت،نہجِ نبوت، اعمالِ نبوت، اور اسی طرح  کے کئی اور عمدہ عمدہ القابات دئے گئے جس سے عام سادہ لوح مسلمان اور کچھ  علماء بھی دھوکا کھاگئے اور اسی کو پورا دین سمجھ لیا گیا، اور اب تو یہ جماعت ایسے دوراہے پر کھڑی ہے کہ ان میں اکثر لوگ تذبذب کا شکار ہیں کہ شہر میں جانے کا راستہ کونسا ہے ؟

بیشک اس جماعت سے کچھ مسلمانوں  کو اتنا تو ضرور علم ہوا کہ ہم مسلمان ہیں اور صوم و صلوۃ کے ساتھ ساتھ کچھ عبادات کا بھی پابند بنادیا لیکن اسی طریق میں جکڑکر  بند کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کو ترقی سے روک دیا جس ترقی کی طرف اخوان المسلمین روز بروز گامزن تھی

*نعروں میں فرق*

شیخ حسن البنا  شھید رح کی شھادت ۱۹۴۹ء میں قاھرہ کی سب سے بڑی سڑک پر ہوئی اور ا خوان المسلمین کی تاسیس ۱۹۲۸ء میں عمل میں آئی تھی،


ان کی کل عمر ۴۳ سال رہی، گویا ۲۰ سال کے قلیل عرصے میں اس مرد قلندر نے ملک میں ایک ایسی تحریک کھڑی کردی جس نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا، وہ قوم جو جاھلیت کے نرغے میں جاچکی تھی اسے دوبارہ اسلام کی طرف موڑ دیا، وہ نوجوان جو الحاد و دہریت میں ڈوبو رہا تھا اور وطنیت، قومیت اور دوسرے جاھل افکار کا علم بردار بن چکا تھا، اس تحریک کی بدولت اس کی ایسی کایا پلٹی کہ زبانوں پر یہ نعرہ تھا۔

 *الله غايتنا*

اللہ کی خوشنودی ہمارا مقصود ہے

*الرسول زعیمنا*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم ہمارے قائد ہیں۔

*القرآن دستورنا*

قرآن ہمارا دستور ہے

*الجہاد سبیلنا*

جہاد ہمارا راستہ ہے

*الموت فی سبیل اللہ امانینا*

اللہ کی راہ میں موت ہماری دیرینہ آرزو ہے

اسی طرح تبلیغی جماعت نے بھی مسلمانوں کی اصلاح کی فکر میں گھر گھر اور در در، شراب خانوں، زنا کے اڈوں، ہر گلی اور ہر نکڑ، غرض ہر اس جگہ جہاں مسلمان غفلت کی زندگی گزار رہے تھے پہنچ کر بتایا کہ ہماری کامیابی دین میں ہے ،  پھر جب وہ مسلمان اپنے دین کو سیکھنے کے لئے ان کے ساتھ مسجد آئے تو انہیں دین کے موٹے موٹے اعمال کے ساتھ ساتھ اپنے خاص طریقہ کو دین بتایا، اسی کو نبیوں والا عمل، صحابہ والا عمل بتایا، اور اس طریق سے ذرہ برابر انحراف کو بے دینی اور اللہ کی پکڑ بتایا، اور اسی نہج پر چلتے ہوئے نوے سال کے عرصے میں یہ جماعت یہاں تک پہنچ گئی کہ اب ان کا نعرہ ہے

*الدعوة المروجۃ غايتنا*

مروجہ دعوت ہمارا مقصود ہے،

*الشیخ سعد زعیمنا*

شیخ سعد ہمارے قائد ہیں

*ملفوظاتہ دستورنا*

مولانا الیاس صاحب رح کے ملفوظات ہمارا دستور ہیں

*الخروج سبیلنا*

چلہ چار ماہ لگانا ہمارا راستہ ہے

*اصابۃ الجرح امانینا*

انگلی کٹا کر شھیدوں میں نام لکھوانا ہماری دیرینہ آرزو ہے،

 بیشک تبلیغی جماعت کے فوائد سب کے سامنے  اور ناقابل انکار لیکن نقصانات انتہائی سنگین اور بظاھر ناقابل تلافی۔۔۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ دعوی اور عمل میں عدمِ تطبیق۔۔۔۔ دعوی کے مطابق فضائل کا انبار لیکن عملا محدود اور دوسرے دینی شعبوں سے بے پرواہ بلکہ بعض مرتبہ مخالف بھی۔۔۔۔۔ جبکہ اخوان المسلمین اس کے برخلاف نہ دعوی نہ فضائل کا ڈھیر، نہ نبیوں والے کام ، صحابہ والے کام اور تمام نبیوں کی مشترکہ سنت جیسے اعجازات کا تمغہ بلکہ امت کو اپنے طریق کے بجائے دینِ محمدی  سےجوڑتے ہوئے تمام شعبوں کو سمیٹتے ہوئے مصر کے تخت و تاج تک پہنچ گئے

لھذا اخوان المسلمین اور تبلیغی جماعت کے فوائد یکساں بتانا میرے جیسے ادنی طالب علم کے لئے بہت مشکل۔۔۔۔۔۔ بہت مشکل ۔۔۔۔۔ بہت مشکل۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

آصفہ کی آہوں کا کچھ تو مداوا ہو!

ترکی کی نئی نسل