جھوٹی خبروں کا طوفان، ہماری ذمہ داریاں

جھوٹی خبروں کا طوفان، ہماری ذمہ داریاں۔۔۔

جھوٹی خبروں کے پھیلانے سے بھی اشتعال بڑھتا ہے ہندوتوا تنظیموں کا کام یہی ہے کہ فساد کے عین وقت غلط اعداد و شمار کے ذریعے امن پسند ہندو بھائیوں کو مشتعل کرنا اور تشدد پر ابھارنا..

اسی تناظر میں کچھ ضروری باتیں
1. خوف و وہم کا جو بازار گرم کیا جار ہا ہے اسے حاوی نہ ہونے دیں. خوف و وہم اپنے اندر جگہ مت دیجیے اگر کسی وجہ سے پنپنے لگے تو پہلی فرصت میں نکال باہر کیجیے. اقلیت میں ہونے کی نفسیات بالکل غلط ہے. ہم اس سوسائٹی کا حصہ ہے. صرف حصہ ہی نہیں بلکہ ہم خود دوسری سب سے بڑی سوسائٹی ہے.


2. مذہب اور بین المذاہب اتحاد اور ایک ہونے کا پیغام.... اچھی چیزوں میں سب کے ساتھ جڑنا اور برے کام سے دور رہنا.

3. عطیات charity سوچ سمجھ کر کیجیے. بھارت میں سب سے زیادہ charity کرنے والے ہم ہیں. اسلیے سوچ سمجھ کر عطیات دیجیے. مائیکرو فاءننس کا ماڈل بنا کر کام کیجیے .


4. بھارت میں تشدد کے واقعات بہت زیادہ ہورہے ہیں. ایسے تمام واقعات کو ہیومن رائٹس میں درج کیجیے. نفرت یا تشدد کا جواب ردعمل نہیں بلکہ اسے قومی و بین الاقوامی سطح پر ڈاکیومنٹ کیا جائے.
5. جمہوری حقوق کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے. اس کے دستور کا پڑھنا اور ہم خیال افراد سے، دستور سے واقف کارکنان سے تبادلہ خیال کیاجانا ضروری ہے.


6. ہم نفرت پھیلانے والوں کو نکال نہیں سکتے لیکن  مختلف زبانوں میں زیادہ سے زیادہ مثبت مواد لکھ سکتے ہیں. لہذا سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ مثبت لکھیے. یہی منفی سوچ کا توڑ ہے.


7. وطن عزیز کے سبھی شہریوں سے اچھے تعلقات بنائیں. حسن اخلاق اور بہترین کردار ہونے کا ثبوت دیں چاہے سامنے والا کیسا ہی غلیظ انسان کیوں نہ ہو.

8. جوانوں کی رہنمائی کریں. ان میں جوش و ولولہ بہت ہے. اس انرجی کا استعمال تخلیقی نہج پر ہو. منفی باتیں  بہت ہو چکی ہیں. جذبات سے نہیں بلکہ ذہن سے کام لیجیے.

9. آپسی میل جول بڑھائیں. قوم کے مختلف اداروں اور جماعتوں میں کام کرنے والے جوانوں میں باہمی ربط ہو. ٹھیک اسی طرح برادران وطن سے بھی ایک مضبوط مثبت رشتہ رکھیں.

10. دھیرے دھیرے قوم کی ترقی کے لیے راستے ہموار کریں. سیاست، تعلیم اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں. اوپر جانے والے کو اور اوپر تک بھیجیں. اپنی نمائندگی کو ہر فیلڈ میں یقینی بنایا جائے اور اسکے لیے جو قربانی بھی پیش کی جاسکتی ہیں اس سے پیچھے نہ ہٹیں اور نہ ہی تذبذب کا شکار ہوں. وہم و خوف کو دور رکھیں.


10. ہمارے پاس تین آپشن ہیں

الف. منفی سوچ، نفرت و تشدد کو منفی سوچ، تشدد اور نفرت سے ڈیل کریں

ب.) منفی سوچ کو مثبت سوچ سے دور کریں.

ت.) کچھ نہ کریں. ہاتھ پر ہاتھ دھرے یوں ہی وقت برباد کریں.

اس میں سے ب. آپشن درست ہے اور ہم بہت زیادہ مثبت  سوچ و مواد کے ساتھ  میدان میں کام کرنا ہے.۔۔


🖋 شینالفخان
کاروانِ امن و انصاف

Comments

Popular posts from this blog

آصفہ کی آہوں کا کچھ تو مداوا ہو!

ترکی کی نئی نسل